Pay in 4 interest-free payments of $30.00 Learn more
Shipping Estimate
USA
- USA
- CAN
- USA
- CAN
Ships within 48 hours · Estimated delivery Nov 4 - Nov 9
Pay in 4 interest-free payments of $30.00 Learn more
Ships within 48 hours · Estimated delivery Nov 4 - Nov 9
باب 2 - فصل اول : وُسعت پذیر کائنات
باب 3 : اسلام اور جنگی قیدی
اخلاقِ حسنہ کی یہ تعمیر و تشکیل محض حصولِ علم سے ممکن نہیں بلکہ علم کے ساتھ عملِ صالح اور اُسوۂ حسنہ کی مکمل اتباع سے مشروط ہے۔ اسلام نے انسان کے اس بنیادی جوہرِ تربیت کو پروان چڑھانے کے لئے جو مکمل اور جامع نظام عطا فرمایا ہے اس کا اہم ترین ادارہ مسجد ہے۔ مسجد ہی اسلام کے نظامِ تربیت و روحانیت کی تشکیل کا مرکزی مقام ہے۔
سیرت نبوی انفرادی، اجتماعی، قومی اور بین الاقوامی ہر دو مرکبات کا احاطہ کرتے ہوئے جامع اور ہمہ گیر رہنمائی عطا کرتی ہے۔ مکہ میں حضور نبی اکرم ﷺ کا سارا دور دعوت حق کے فروغ اور اسلام کے ابتدائی تعارف کو عام کرنے میں گزرا۔ تاہم مدینہ طیبہ تشریف لاتے ہی آپ نے دین کی تبلیغ کے مکّی انداز کے ساتھ ساتھ ایک اور امر کی جانب بھی توجہ مبذول فرمائی اور وہ تھا ایک منظم معاشرے کا قیام۔ کوئی بھی منظم معاشرہ ایک آئینی دستوری ریاست کے بغیر قائم نہیں کیا جاسکتا، ایک ایسی ریاست کہ جہاں قانون کی حکمرانی ہو۔ یہی وجہ تھی کہ مدنی دور میں ریاست کا قیام آپ ﷺ کی ترجیح اول رہا۔ مدینہ تشریف لاتے ہی قیام ریاست کے سلسلے میں آپ نے جن امور کو اپنی ترجیحات میں رکھا ان میں سرفہرست آئینی ریاست کی تشکیل اور اس کا دستور تیار کرنا تھا۔ آپ نے اس نو زائیدہ مملکت کو جو دستور عطا فرمایا وہ تاریخ انسانی کاپہلا تحریری دستور ہے، جس سے تاریخ انسانی ایک نئے علمی، سیاسی، فکری، دستوری، معاشی اور سماجی دور میں داخل ہوگئی اور دورِ جدید کا آغاز ہوا جس کی روشنی آج کی انسانیت تک پہنچی۔
تشہد کی حالت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام پیش کرنے کا ادب
Seerat e Nabawi ki Tareekhi Ahamiyyat rewayat e fehm e hadith باب 2 - فصل اول
US$ 128.00
US$ 94.95
US$ 16.00
US$ 116.00
US$ 120.00